کسان کی محنت کا نصیب
جب گندم کی کٹائی کا وقت آتا ہے تو کسان اپنی محنت اور لگن کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب فصل کی رضامندی کے ساتھ ایک نیا موسم شروع ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ اس بار کسان کی محنت کو مارکیٹ میں مناسب قیمت نہیں مل رہی۔
مہنگائی اور خرچے کی بڑھتی ہوئی مشکلات
اس دفعہ کسان کو دوہری مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک طرف ڈیزل کی قیمتیں 520 روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ ہر مشین جو ڈیزل پر چلتی ہے، چلانے کے لیے اب زیادہ پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف گندم کا نرخ بھی اس حالت میں نہیں ہے کہ وہ کسان کے خرچے کو پورا کر سکے۔ مہنگائی کے اس طوفان کے درمیان، کسان سوچ رہا ہے کہ آخر وہ کہاں جائے؟
کسان کا صلہ اور اس کا مستقبل
کسان کی محنت کا صلہ ملنا چاہیے، لیکن موجودہ حالات میں ایسا دکھائی نہیں دیتا۔
ان کے سال بھر کی محنت کو کم قیمتوں کے سبب نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی ٹیڑھی ہوچکی ہے اور انہیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا گیا ہے کہ کیا واقعی ان کی محنت کا کوئی پھل ملتا ہے؟

